باج گزار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خراج یا محصول ادا کرنے والا، مطبع۔ 'سارے یونان کو اپنا مطیع فرمان اور باج گزار بنا لیا تھا۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١٨٠:٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم باج کے ساتھ مصدر گزاردن سے مشتق صیغۂ امر 'گزار' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'باج گزار' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٥٤ء میں ذوق کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خراج یا محصول ادا کرنے والا، مطبع۔ 'سارے یونان کو اپنا مطیع فرمان اور باج گزار بنا لیا تھا۔"      ( ١٩٢٦ء، شرر، مضامین، ١٨٠:٣ )

جنس: مذکر